لکھنؤ 4نومبر (آئی این ایس انڈیا ) لوک سبھا انتخابات کے قریب آتے ہی ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کا مسئلہ ایک بار پھر گرما گیا ہے۔ آج لکھیم پور کھیری میں ایک مال کا افتتاح کرنے پہنچے یوپی کے نائب وزیر اعلی کیشو پرساد نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ رام للا کے مندر کی تعمیر کو دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی ۔ ہمیں سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار ہے ،مگر میں یہ دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ وہاں رام مندر کی تعمیر سے ہمیں کوئی نہیں روک سکتا۔
اُترپردیش کے وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ رام جنم بھومی پر بابر کے نام کی ایک بھی اینٹ نہیں رکھنے دی جائے گی۔ انہوں نے کانگریس پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس ہندو سماج کو دھوکہ دینے کا کام کر رہی ہے۔
گزشتہ چند دنوں میں متعدد ہندو تنظیموں اور بی جے پی لیڈروں نے رام مندر کی تعمیر کو لے کر کئی تیکھے بیانات دیئے ہیں ۔ اس میں آر ایس ایس غالب ہے۔ اس دوران مسلم پرسنل لاء بورڈ نے ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لیے سال 1992 جیسی تحریک شروع کرنے کے آر ایس ایس کے ارادے کو ملک کے لیے انتہائی خطرناک قرار دیا ہے۔آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ نے کہا کہ مندر کو لے کراچانک تیز ہوئی سرگرمیاں مکمل طورپرسیاسی ہیں۔
واضح ہو کہ کل دہلی کے تال کٹورا اسٹیڈیم میں دھرمادیش کے لیے ملک کے مختلف حصوں سے دہلی پہنچے سادھو سنتوں نے بھی ایک سر میں جے شری رام کا نعرہ لگاتے ہوئے اپیل کی تھی کہ مرکزی حکومت جلد ہی رام مندر بنانے کو لے کر آرڈیننس لے کر آئے۔ کل سنتوں نے کہا کہ سپریم کورٹ سے فی الحال زیادہ امید نہیں بچی ہے اور ایسے میں حکومت قانون بنا کر ہی رام مندر بنانے کا راستہ ہموار کرسکتی ہے۔